قوانین کے خلاف درجنوں نجی نرسنگ اسکولوں کو لائسنس جاری کراچی (بابر علی اعوان /اسٹاف رپورٹر) پی این سی (پاکستان نرسنگ کونسل )نے اپنے ہی قوانین کے خلاف سندھ میں درجنوں ایسے نجی اسکولوں کو لائسنس جاری کیے ہیں جومعیار پر پورا نہیں اترے ۔سندھ کے70فیصد نرسنگ اسکولوں کے ساتھ اسپتال منسلک نہیں ہیں حالانکہ نرسنگ اسکول کے لئے اسپتال کا ہونا لازمی ہے اور پاکستان نرسنگ کونسل کے سابق صدر ڈاکٹر عاصم حسین نےاس ضمن میں 12دسمبر 2009کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان نرسنگ کونسل اس وقت تک کسی نئے اسکول کو ریکوگنائز (تسلیم )نہیں کرے گی جب تک کہ وہ اپنا اسپتال قائم نہ کرلے جبکہ پہلے سے قائم شدہ اسکول اگر 2011تک اپنا اسپتال قائم نہیں کریں گے تو ان کو ڈی ریکوگنائز (غیر تسلیم شدہ ) کر دیا جائے گا۔لیکن 5سال گزرنے کے باوجود اسکولوں کی جانب سے اسپتال قائم نہیں کیے گئے نہ ہی اسکولوں کو ڈی ریکوگنائز کیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق سندھ میں نرسنگ اسکول اپنے اسپتال نہ ہونے پر سرکاری ونجی اسپتالوں میں طلبا کو پریکٹس کے لئے بھیجتے ہیں جبکہ بیشتر اسکولوں کے طلبا پریکٹس سے محروم رہتے ہیں جس سے وہ مریضوں کی دیکھ بھال اور بیماریوں کو سمجھ نہیں سکتے اور مکمل ٹرینڈ نہیں ہوتے جو مریضوں کےلئے بھی پریشانی کا باعث بنتاہے ۔اس سلسلے میں پاکستان نرسنگ کونسل کی صدر ڈاکٹر رفعت جان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک سال قبل چارج لیا ہے جس کے بعد کسی اسکول کو ریکوگنائز نہیں کیا ۔ ان کی ساری توجہ تعلیمی معیارات پرہےجو بنائے جارہے ہیں جب معیارات بن جائیں گے تو ان پر عمل کرنا لازمی ہوگا جن اسکولوں کی جانب سے ایجوکیشنل اسٹینڈرڈز کو پورا نہیں کیا جائے گا ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں نرسنگ کی تعلیم وتربیت کو بہت سارے مسائل درپیش ہیں جنہیں رفتہ رفتہ ہی حل کیا جائے گا۔ http://bit.ly/2gfiVU4 http://bit.ly/2gAO5cI


via Pakistani Nurses http://bit.ly/2gfoqlH

Popular posts from this blog