رسک الاؤنس

رسک الائونس
ہم ینگ نرسز ایسوسیشن پنجاب کو ان کی جدوجہد کی کامیابی پر مبارک بعد پیش کرتے ہیں اور میاں محمد شہباز شريف اور  سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نجم احمد شاہ کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے نرسز کے اس مسئلے پہ توجہ دی۔ امید ہے کہ پنجاب کی نرسز پہلے سے بہتر انداز میں پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دیں گی۔

اس کے علاوہ پنجاب حکومت سے گزارش ہے کہ پنجاب نرسز کے دوسرے دیرینہ مسائل جیسا کہ سروس سٹرکچر پہ بھی توجہ دے۔ تا کہ نرسز سڑکوں پر اپنے حقوق کے لئیے جدوجہد کرنے کے بجائے اسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف عمل رہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ایک عام آدمی کا تصور ہے کہ نرسنگ کے پیشے کا تعلق صرف انجیکشن یا ڈرپ لگانے سے ہے۔   جبکہ حقیقت میں موئثر علاج کے لئیے ایک مریض کے اسپتال میں قیام کے دوران تمام مراحل میں نرسز کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں نرسنگ کا شعبہ شروع میں مسائل کا شکار رہا لیکن اب یہ شعبہ ترقی کر رہا ہے۔

پنجاب کی نرسز کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ انہیں رسک الاؤنس دیا جائے کیوں کہ ان کو اسپتالوں میں بہت سی خطرناک وبائی امراض کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور نرسز دوسرے طبی عملے کے مقابلے میں مریضوں کی دیکھ بھال میں سب سے زیاد وقت گزارتی ہیں۔ خیبرپختونخواہ حکومت نرسز کو اس مد میں 10000 رپے ماہانا  ہیلتھ پروفیشنل الائونس کے نام سے دے رہی ہے۔

پنجاب میں نرسز کے لئیے منظور ہونے والا رسک الاؤنس جنوری سے قابل عمل ہوگا۔ جنوری 2017 سے 4000 رپے ماہانا ملیں گے جبکہ جولائی 2017 سے 9000 رپے ماہانا ملیں گے۔

سندھ اور بلوچستان کے نرسز سے بھی گزارش ہے کہ رسک الاؤنس کے حصول کے لئیے بھرپور جدوجہد کا آغاز کریں کیوں کہ وہ بھی خطرناک بیماریوں کے جراثیم کے اتنے ہی رسک پر ہیں۔

Popular posts from this blog