پمز نرسز ایسوسی ایشن نے آج سے احتجاج شروع کر دیا

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز)، اسلام آباد، کی نرسز کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔ پمز نرسز ایسوسی ایشن آج سے اپنے دیرینہ مطالبات حل نہ ہونے اور بلوچستان نرسز پہ ہونے والی حکومتی انتقامی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتی ہے۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پمز نرسز کے حالات بلوچستان کی نرسز سے مختلف نہیں۔ دونوں طرف نرسز اور مریضوں کے استہلال کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک طرف پمز میں نرسز کی شدید قلت ہے تو دوسری طرف سپورٹنگ سٹاف کی کمی کی وجہ سے نرسز مزید پِس رہی ہیں اور مریضوں کو بھی وہ نرسنگ کیئر نہیں مل رہی جو ان کا حق ہے۔
علاوہ ازیں یہ کہ سینیر نرسز کے پروموشنز بھی کئی سالوں سے رکے ہوئے ہیں، نرسز جس گریڈ میں آئی تھی اسی میں ریٹائر ہونے کو ہیں۔ پمز میں نئے سے نئے پراجیکٹ بنتے گئے اور مرضوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا گیا مگر نرسز کی آسامیاں پُر نہیں کی گئیں۔ نرسز کی کمی کی وجہ سے انہیں بار بار 12 گھنٹے طویل نائٹ شفٹ ڈیوٹی کرنی پڑتی ہے۔ جس کی کوئی کمپینسیشن نہیں دی جاتی اور نا اووَر ٹائم دیا جاتا ہے۔ نرسز کی کمی کا بہانہ بنا کر، نرسز کو اپنی پیشہ ورانہ کوالیفیکیشن بہتر کرنے کے مواقع سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ Post-RN BScN میں داخلہ ملنے والی نرسز کو کلازسز کے لئیے رلیوَ بھی نہیں کیا جا رہا۔
اس کے اعلاوہ، اسلام آباد جیسے مہنگے ترین شہر میں نرسز کو صوبوں سے بھی کم الائونسز دیئے جا رہیں ہیں۔ ہمارہ مطالبہ ہے کہ نرسنگ الائونس، یونیفارم الائونس، اور میس الائونس کم سے کم صوبوں کے برابر ضرور دئیے جائیں اور سٹوڈنٹ نرسز کا وظیفہ بھی بڑھا کر صوبوں کے برابر کیا جائے۔
پمز نرسز ایسوسی ایشن نے نرسز کے ان مسائل کو ہر سطح پر اٹھایا لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔ جس وجہ سے نہ صرف نرسز بلکہ مریض بھی سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب ان مسائل کے ٹھوس حل تک احتجاج جاری رہے گا۔ ہم اپنے قابلِ احترام مخالف پینل، ایگل گروپ کے بھی تہ دل سے مشکور ہیں کہ وہ اس احتجاج میں ہمارا ساتھ دے رہیں ہیں۔