تحریر۔ ناصر علی شاہ جون 2019 کو ڈاکٹر شیر شاہ سید سابقہ سیکٹری جنرل پاکستان میڈیکل ایسوسیش نے آرٹیکل "Health: The trained nursing work force challenge" کے نام سے ڈان نیوز میں شائع کیا تھا جو قابل تعریف بھی ہے اور ہمیں ان سے شکوہ و شکایت اور غصہ بھی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑی وضاحت کے ساتھ نرسنگ کا اجرا کونسلات اور ان لوگوں کی جنہوں نے نرسنگ شعبے کی ترقی کیلئے دن رات ایک کئے، کا ذکر کیا ہے اور ساتھ کئی انگلش نرسنگ کتابوں کا بھی اردو میں ترجمہ کیا، ہم آپ کی ان خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ 1900 کی دہائی میں جس طرح مریضوں کی خدمت کے خاطر نرسنگ شعبے کو ترقی دینے کی کوشش کی گئی تھی کاش ان 70 سالوں میں نرسنگ شعبے کی بہتری کے لئے کام کیا جاتا تو آج نرسنگ شعبہ کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہوتا, گرچہ پاکستان نرسنگ کونسل 1973 کی آئین کے بعد فعال ہوگیا تھا مگر اس ادارے کا اختیارات ڈاکٹرز اور دوسرے شعبے کے لوگوں کو سونپنے کی وجہ سے ہم 1600ء سے بھی پیچھے رہ گئے کیونکہ نہ نرسز کو آگے لایا گیا اور نہ آگے آنے کا موقع دیا گیا اور اسی وجہ سے آج بھی کوئی پی این سی کال کرتا ہ...
1. Download challan form from the downloads section of online.pnc.org.pk . The exact link of challan form is: http://online.pnc.org.pk/RevisedChallan.pdf 2. Submit fee in any Habib Bank branch and get it stamped from the bank. 3. Scan the challan copy and upload it online Note: you can easily scan challan form using your cellphone which has more than 5 megapixels camera. You can use CamScanner app to scan challan form. link: https://play.google.com/store/apps/details?id=com.intsig.camscanner